ادا جعفری، جن کا اصل نام عزیز جہاں تھا، 22 اگست 1924ء کو بدایوں، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئیں۔ تین سال کی عمر میں ان کے والد مولوی بدرالحسن کے انتقال کے بعد ان کی پرورش والدہ نے کی، اور بچپن ہی سے انہیں اردو، فارسی اور عربی ادب سے خاص شغف ہو گیا۔ اوئل عمری میں ہی انہوں نے شاعری شروع کر دی اور نو سال کی عمر میں پہلا شعر لکھا، جو اس دور میں خواتین کے لیے ایک جراتمندانہ قدم سمجھا جاتا تھا۔ رسمی تعلیمی اداروں سے کم وابستگی کے باوجود ان کا ادبی مطالعہ غیر معمولی حد تک وسیع اور گہرا تھا، جس نے ان کے شعری شعور کو پختگی بخشی۔ 1945ء میں اکبر الہ آبادی کے شاگرد اختر شیرا نی کے رسالے رومان میں ان کا پہلا شعر شائع ہوا اور یہیں سے ان کے ادبی سفر کا باقاعدہ آغاز ہوا۔
1947ء جنوری 29کو انہوں نے نورالحسن جعفری سے شادی کی، جو ایک اعلیٰ سول افسر اور نامور ادبی شخصیت تھے۔ تقسیم کے بعد وہ کراچی منتقل ہوئیں، جہاں گھریلو زندگی کے ساتھ ان کا تخلیقی سفر بھرپور اعتماد اور آزادی کے ساتھ آگے بڑھا۔ ان کے تین بچے ہوئے: صبیحہ جعفری، اظمی جعفری اور عامر جعفری۔ اداجعفری نے شاعری میں غزل، نظم، آزاد نظم، ہائیکو اور تنقیدی و تحقیقی نثر سبھی میں کام کیا، جن میں "میں ساز ڈھونڈتی رہی"، "شہرِ درد"، "غزلان، تم تو واقف ہو"، "حرفِ شناسائی"، "سفر باقی"، "موسم موسم"، "غزل نما" اور ان کی سوانح عمری "جو رہی سو بے خبری رہی" شامل ہیں۔ ہائیکو پر مشتمل مجموعہ "سازِ سخن بہانہ ہے" بھی خاصے کی چیز ہے۔ ان کے کلام میں عشق، انسانی تجربات، رومانویت، معاشرتی تضادات اور خاص طور پر عورت کے احساس و تشخص کو نہایت سلیقے، نرمی اور تہذیبی وقار کے ساتھ پیش کیا گیا، جس نے انہیں وہ مقام دلایا کہ انہیں بجا طور پر ”اردو شاعری کی پہلی خاتون“ یا "First Lady of Urdu Poetry" کہا جاتا ہے۔
اپنی ادبی خدمات کے اعتراف میں ادا جعفری کو بے شمار قومی و بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا، جن میں آدم جی ادبی ایوارڈ (1967)، تمغۂ امتیاز (1981)، بابائے اردو ایوارڈ (1994)، قائدِ اعظم ادبی ایوارڈ (1997)، پرائیڈ آف پرفارمنس (2003) اور کمالِ فن ایوارڈ (2003) شامل ہیں۔ اور وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والی پہلی خاتون تھیں۔ ادا جعفری نے 12 مارچ 2015ء کو کراچی میں وفات پائی اور وہیں سپردِ خاک ہوئیں۔ اُن کا ادبی سرمایہ آج بھی نہ صرف اردو شاعری کی روایت میں زندہ ہے بلکہ پروین شاکر، کشور ناہید، فہمیدہ ریاض سمیت کئی بعد کی خواتین شعرا کے لیے بنیاد اور تحریک کا درجہ رکھتا ہے۔ لطافت، شائستگی، جذباتی گہرائی، عورت کی داخلی دنیا اور روایت و جدت کے خوبصورت امتزاج نے ادا جعفری کو اردو ادب میں وہ مقام دیا ہے جو کم ہی کسی کے حصے میں آتا ہے۔