شاعر

ادا جعفری

Ada Jafri

35
منتخب کلام
35
آواز میں کلام
1
محفلیں
کلام پڑھیں

تعارف

ادا جعفری، جن کا اصل نام عزیز جہاں تھا، 22 اگست 1924ء کو بدایوں، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئیں۔ تین سال کی عمر میں ان کے والد مولوی بدرالحسن کے انتقال کے بعد ان کی پرورش والدہ نے کی، اور بچپن ہی سے انہیں اردو، فارسی اور عربی ادب سے خاص شغف ہو گیا۔ اوئل عمری میں ہی انہوں نے شاعری شروع کر دی اور نو سال کی عمر میں پہلا شعر لکھا، جو اس دور میں خواتین کے لیے ایک جراتمندانہ قدم سمجھا جاتا تھا۔ رسمی تعلیمی اداروں سے کم وابستگی کے باوجود ان کا ادبی مطالعہ غیر معمولی حد تک وسیع اور گہرا تھا، جس نے ان کے شعری شعور کو پختگی بخشی۔ 1945ء میں اکبر الہ آبادی کے شاگرد اختر شیرا نی کے رسالے رومان میں ان کا پہلا شعر شائع ہوا اور یہیں سے ان کے ادبی سفر کا باقاعدہ آغاز ہوا۔1947ء جنوری 29کو انہوں نے نورالحسن جعفری سے شادی کی، جو ایک اعلیٰ سول افسر اور نامور ادبی شخصیت تھے۔ تقسیم کے بعد وہ کراچی منتقل ہوئیں، جہاں گھریلو زندگی کے ساتھ ان کا تخلیقی سفر بھرپور اعتماد اور آزادی کے ساتھ آگے بڑھا۔ ان کے تین بچے ہوئے: صبیحہ جعفری، اظمی جعفری اور عامر جعفری۔ اداجعفری نے شاعری میں غزل، نظم، آزاد نظم، ہائیکو اور تنقیدی و تحقیقی نثر سبھی میں کام کیا، جن میں "میں ساز ڈھونڈتی رہی"، "شہرِ درد"، "غزلان، تم تو واقف ہو"، "حرفِ شناسائی"، "سفر باقی"، "موسم موسم"، "غزل نما" اور ان کی سوانح عمری "جو رہی سو بے خبری رہی" شامل ہیں۔ ہائیکو پر مشتمل مجموعہ "سازِ سخن بہانہ ہے" بھی خاصے کی چیز ہے۔ ان کے کلام میں عشق، انسانی تجربات، رومانویت، معاشرتی تضادات اور خاص طور پر عورت کے احساس و تشخص کو نہایت سلیقے، نرمی اور تہذیبی وقار کے ساتھ پیش کیا گیا، جس نے انہیں وہ مقام دلایا کہ انہیں بجا طور پر ”اردو شاعری کی پہلی خاتون“ یا "First Lady of Urdu Poetry" کہا جاتا ہے۔اپنی ادبی خدمات کے اعتراف میں ادا جعفری کو بے شمار قومی و بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا، جن میں آدم جی ادبی ایوارڈ (1967)، تمغۂ امتیاز (1981)، بابائے اردو ایوارڈ (1994)، قائدِ اعظم ادبی ایوارڈ (1997)، پرائیڈ آف پرفارمنس (2003) اور کمالِ فن ایوارڈ (2003) شامل ہیں۔ اور وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والی پہلی خاتون تھیں۔ ادا جعفری نے 12 مارچ 2015ء کو کراچی میں وفات پائی اور وہیں سپردِ خاک ہوئیں۔ اُن کا ادبی سرمایہ آج بھی نہ صرف اردو شاعری کی روایت میں زندہ ہے بلکہ پروین شاکر، کشور ناہید، فہمیدہ ریاض سمیت کئی بعد کی خواتین شعرا کے لیے بنیاد اور تحریک کا درجہ رکھتا ہے۔ لطافت، شائستگی، جذباتی گہرائی، عورت کی داخلی دنیا اور روایت و جدت کے خوبصورت امتزاج نے ادا جعفری کو اردو ادب میں وہ مقام دیا ہے جو کم ہی کسی کے حصے میں آتا ہے۔

منتخب اشعار

یہی نہیں کہ زخم جاں کو چارہ جو ملا نہیں

یہ حال تھا کہ دل کو اسم آرزو ملا نہیں

پورا کلام ‹

ایک موہوم اضطراب سا ہے

اک تلاطم سا پیچ و تاب سا ہے

پورا کلام ‹
  1. 01 یہی نہیں کہ زخم جاں کو چارہ جو ملا نہیں Yahi nahin ke zakhm-e-jaan ko chaara-jo mila nahin آواز میں دستیاب
  2. 02 ایک موہوم اضطراب سا ہے Ek mauhoom iztirab sa hai آواز میں دستیاب
  3. 03 گھر کا رستہ بھی ملا تھا شاید Ghar ka rasta bhi mila tha shayad آواز میں دستیاب
  4. 04 ہر گام سنبھل سنبھل رہی تھی Har gaam sambhal sambhal rahi thi آواز میں دستیاب
  5. 05 نگاہ اوٹ رہوں کاسۂ خبر میں رہوں Nigah oat rahoon kasa-e-khabar mein rahoon آواز میں دستیاب
  6. 06 آگے حریم غم سے کوئی راستہ نہ تھا Aage hareem-e-gham se koi raasta na tha آواز میں دستیاب