افقر موہانی

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

افقر موہانی اردو کے ممتاز شاعر تھے جن کا اصل نام سید حسین اور تخلص افقر تھا۔ بعض مستند حوالوں میں ان کا تاریخی نام ظفر وارث بھی ملتا ہے۔ وہ13 جولائی 1887 کو اناؤ، اتر پردیش (ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کی شخصیت درویشانہ، صوفیانہ اور روحانی مزاج کی حامل تھی، جس کا عکس ان کی شاعری میں واضح طور پر نظر آتا ہے۔ افقر موہانی عربی و فارسی زبانوں اور علمِ عروض پر گہری دسترس رکھتے تھے، جس نے ان کے شعری اسلوب کو فکری پختگی اور فنی وقار عطا کیا۔

افقر موہانی کا ادبی سفر عشق، انسان دوستی اور تصوف کے گرد گھومتا ہے۔ انہوں نے رندانہ اور صوفیانہ رنگ میں غزلیں کہیں جن میں محبت، ہجر و فراق، امید و یاس، خود شناسی اور فلسفۂ حیات جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔ ان کے کلام میں میر و غالب کی روایت کی جھلک ضرور ملتی ہے، مگر اندازِ بیان اپنی انفرادیت رکھتا ہے۔ سادگی، جذبے کی شدت اور فکری گہرائی ان کی شاعری کی نمایاں خصوصیات ہیں، جو قاری کے دل پر دیرپا اثر چھوڑتی ہیں۔

افقر موہانی اردو ادب میں صوفیانہ اور روحانی شاعری کے اہم نمائندہ شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی غزلیں آج بھی اہلِ ذوق میں مقبول ہیں اور ادبی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔ انہوں نے 3 نومبر 1971 کو وفات پائی، مگر ان کا شعری ورثہ آج بھی زندہ ہے اور اردو شاعری کے خزانے میں ایک قیمتی اضافہ سمجھا جاتا ہے۔ افقر موہانی کا کلام محبت، احساس اور روحانیت کا وہ حسین امتزاج ہے جو ہر دور کے قاری سے ہم کلام رہتا ہے۔