تعین کی حدوں میں جلوہ ساماں ہو نہیں سکتا
وہ حسن کل محیط کفر و ایماں ہو نہیں سکتا
جو پامال خرام ناز جاناں ہو نہیں سکتا
وہ مدفن حاصل گور غریباں ہو نہیں سکتا
اسے رہنے دے یوں ہی بخیہ گر تو اس کی حالت پر
رفو جس کا ہو وہ میرا گریباں ہو نہیں سکتا
ملے گی داد محشر میں وہ ظالم مل نہیں سکتا
کہیں بھی میرے درد دل کا درماں ہو نہیں سکتا
یہ قید لا مکاں کیسی یہ تخصیص مکاں کیا ہے
ترا جلوہ محیط حد امکاں ہو نہیں سکتا
نہیں جب آرزو کوئی تو خون آرزو کیسا
دل بے مدعا ناکام ارماں ہو نہیں سکتا
بھنور میں جتنا ڈوبے گا یہ اتنا اور ابھرے گا
محبت کا سفینہ غرق طوفاں ہو نہیں سکتا
اسے کیا آزمائے گی تجلی برق ایمن کی
جو ان کا دیکھنے والا ہے حیراں ہو نہیں سکتا
وہ اشک غم نہ سرخی جس میں خون دل کی شامل ہو
مرے افسانۂ الفت کا عنواں ہو نہیں سکتا
طبیعت ہی بدل دی لذت آزار پیہم نے
وہ چاہیں بھی تو میرے غم کا درماں ہو نہیں سکتا
مری ہستی حجاب روئے جاناں کیوں ہو اے افقرؔ
مری ہستی کا پردہ روئے جاناں ہو نہیں سکتا
افقر موہانی