خواب ٹوٹے اپنے تھوڑا اور رونے دو
ہجر میں ہیں غم پرانے تو ہونے دو
غم ہی غم ہیں ہجر کا موسم ٹلنے دو
عشق کی گرمی ہے یخ بستہ گھلنے دو
اگ دبی ہے صدیوں سے ضیاء کی یہ جو
نور ہے یہ کشف کا پردے ہٹنے دو
ہے سفر دیوانگی رب کے عشق کا
جنگلوں میں زندگی پنہا ں کر نے دو
دل کے صحرا میں چھپی ہے جو روشنی
سرخی دل کو تھوڑا اور سنساں چلنے دو
دشتِ تنہائی میں یادوں کی آہٹیں
گونجتی ہیں تم ابھی شدت بڑھنے دو
زمانے کی بے رحمی اور دھوپ بھی
زندگی کچھ پل تپش میں اور جلنے دو
ان گنت موجوں میں اتری ہے زندگی
لہریں ہیں ساحل پہ کچھ پل تو جینے دو
ہم سفر جب ساتھ چلنے لگ پڑیں
ہاتھ پکڑو راز دل تو کہنے دو
راستے گرچہ نہیں ہیں آساں یہ
رابطے مشکل نہیں یہ ہونے دو
چاہتوں کے رنگ سارے بکھر گئے
الفتوں کی داستانیں تو لکھنے دو
گھپ اندھیرا ہے یوں ایمن اس زیست میں
روشنی آنے دو رستہ تو بننے دو
ایمن ساغر