اعتبارساجد

شاعر

تعارف شاعری

ہر اک رہ رو، ہر اک رہ گیر کو زنجیر کیا کرنا

ہر اِک رہ رو، ہر اِک رہ گیر کو زنجیر کیا کرنا​
اَنا کے نام پر ہر شخص کو تسخِیر کیا کرنا​
​خبر اُس گھر کی بھی لینی ہے، جس کی چھت شکستہ ہے​
فقط خوابوں میں اِک قصرِ حسیں تعمیر کیا کرنا​
​بہت کافی ہے، سُن لیتی ہیں دیواریں مرے دُکھڑے​
سُنا کر حالِ دل ہر شخص کو دِلگیر کیا کرنا​
​ہمیشہ جس کو عزت دی، سر آنکھوں پر بٹھایا ہے​
ذرا سی بات پر اب اُس کو بےتوقیر کیا کرنا​
​اِسی کٹیا میں رہنا ہے، ابھی کُھل جائیں گی آنکھیں​
تو پھر لے کر تمہارے خواب کی جاگیر کیا کرنا​
​وہی رکھنی ہے آشفتہ سَری جو اُن کی قسمت تھی​
وفا میں کام کوئی بھی خلافِ میر کیا کرنا​

اعتبارساجد