اعتبارساجد

شاعر

تعارف شاعری

مراسم اِس لیے پیدا کیے دربان سے پہلے

مراسم اِس لیے پیدا کیے دربان سے پہلے​
کہ دروازہ بھی آتا ہے کِسی کے لان سے پہلے​
​پھر اُس کے بعد تنہائی کے دُکھ بھی جھیلنے ہوں گے​
یہی ڈر تھا رفاقت کے ہر اِک اِمکان سے پہلے​
​مناسب ہے کہ اپنے راستے تبدیل کر لیں ہم​
کِسی اُلجھن، کِسی تلخی، کِسی خلجان سے پہلے​
​چمک اُٹھے ہیں بالوں میں منور تار چاندی کے​
کِسی کے صحن میں دُھوپ آ گئی دالان سے پہلے​
​کریں گے گفتگُو بھی، گر ہمیں دُنیا نے مُہلت دی​
ذرا ہم دیکھ تو لیں تجھ کو اِطمینان سے پہلے​
​میں شرمندہ ہوں رفتگاں سے جانے کیوں ساجد​
بدل دیتا ہوں رستہ، روز قبرستان سے پہلے​

اعتبارساجد