search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
رابطہ
اعتبارساجد
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
ہر اک رہ رو، ہر اک رہ گیر کو زنجیر کیا کرنا
گھر کی دہلیز سے بازار میں مت آ جانا
سلگ رہا ہوں میں دھیرے دھیرے، مگر کسی پر عیاں نہیں ہے
زخموں کا دوشالہ پہنا دھوپ کو سر پر تان لیا
یہ برسوں کا تعلق توڑ دینا چاہتے ہیں ہم
ترک تعلق کر تو چکے ہیں اک امکان ابھی باقی ہے
مراسم اِس لیے پیدا کیے دربان سے پہلے
اپنی صفائی میں کوئی ہم نے بیاں نہیں دیا
محتاج ہم سفر کی مسافت نہ تھی مری
کہ یہ عہدِ زندگی ہے
اندر سےکوئی گھنگھرو چھنکے کوئی گیت سنیں تو لکھیں بھی
جانے کس چاہ کے کس پیار کے گن گاتے ہو
آنکھوں سے عیاں زخم کی گہرائی تو اب ہے
تمہیں خیال ذات ہے شعور ذات ہی نہیں
یہ کیا حالت بنا رکھی ہے یہ آثار کیسے ہیں
ہم بھی شکستہ دل ہیں، پریشان تم بھی ہو
اس لہو کا لہجہ ہوں
رُتوں کا زہر چکھوں محبس فضا میں رہوں
بچھڑے تو قربتوں کی دعا بھی نہ کر سکے
کبھی تو نے خود بھی سوچا کہ یہ پیاس ہے تو کیوں ہے
تری رحمتوں کے دیار میں ترے بادلوں کو پتا نہیں
کیسے کہیں کہ جان سے پیارا نہیں رہا
پھول تھے رنگ تھے لمحوں کی صباحت ہم تھے
ڈھونڈتے کیا ہو ان آنکھوں میں کہانی میری
مجھ سے مخلص تھا نہ واقف مرے جذبات سے تھا
مجھے ایسا لطف عطا کیا کہ جو ہجر تھا نہ وصال تھا
میں تکیے پر ستارے بو رہا ہوں
بند دریچے سونی گلیاں ان دیکھے انجانے لوگ
ترے جیسا میرا بھی حال تھا نہ سکون تھا نہ قرار تھا
تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں مرے دل سے بوجھ اتار دو
جو خیال تھے نہ قیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے