اعتبارساجد

شاعر

تعارف شاعری

رُتوں کا زہر چکھوں محبس فضا میں رہوں

رُتوں کا زہر چکھوں محبس فضا میں رہوں
مرے جنوں کا تقاضا ہے ابتلا میں رہوں
چمک پڑوں سرد اماں آرزو ہر شب
میں اشک بن کے تری چشم نیم وا میں رہوں
یہ بے وفا مرے ہر جائیوں کا شہر سہی
کچھ اور دیر اسی خواب کی فضا میں رہوں
سہوں عذاب سدا موسموں کا شام و سحر
اسیر وقت رہوں جسم کی قبا میں رہوں
یہ کیا سزا ہے کہ لب تشنہ عمر بھر ساجدؔ
میں اپنی ذات کے میدان کربلا میں رہوں

اعتبارساجد