اکبر اللہ آبادی

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

سید اکبر حسین الہ ابادی 16 نومبر 1846ء کو ضلع الہ اباد کے قصبہ بارہ میں پیدا ہوئے۔والد تفضل حسین نائب تحصیلدار تھے۔ اکبر کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی۔آٹھ ،نو برس کی عمر میں انھوں نے فارسی اور عربی کی درسی کتابیں پڑھ لیں۔پھر ان کا داخلہ مشن اسکول میں کرایا گیا۔لیکن گھر کے مالی حالات اچھے نہ پہونے کی وجہ سے ان کو اسکول چھوڑ کر پندرہ سال کی ہی عمر میں ملازمت تلاش کرنا پڑی۔ اسی کم عمری میں ان کی شادی بھی خدیجہ خاتون نام کی اک دیہاتی لڑکی سے ہو گئی لیکن بیوی ان کو پسند نہیں آئیں۔ اسی عمر میں انھوں نے الہ اباد کی طوائفوں کے کوٹھوں کے چکر لگانے شروع کر دئے

نھوں نے اک طوائف بوٹا جان سے شادی بھی کر لی لیکن اس کا جلد ہی انتقال ہو گیا جس کا اکبر کو صدمہ رہا۔۔ اکبر نے کچھ دنوں ریلوے کے اک ٹھیکیدار کے پاس 20 روپے ماہوار پر ملازمت کی پھر کچھ دنوں بعد وہ کام ختم ہو گیا۔ اسی زمانہ میں انھوں نے انگریزی میں کچھ مہارت حاصل کی اور 1867ء میں وکالت کا امتحان پاس کر لیا۔انھوں نے تین سال تک وکالت کی جس کے بعد وہ ھائی کورٹ کے مسل خواں بن گئے۔ اس عرصہ میں انھوں نے ججوں وکیلوں اور عدالت کی کارروائیوں کو گہرائی کے  ساتھ سمجھا۔ 1873 میں انھوں نے ہائی کورٹ کی وکالت کا امتحان پاس کیا۔ اور تھوڑے ہی عرصہ میں ان کا تقرر منصف کے عہدہ پر ہو گیا۔ اسی زمانہ میں ان کو شیعہ گھرانے کی ایک لڑکی  فاطمہ صغری پسند آ گئی جس سے انھوں نے شادی کر لی اور پہلی بیوی کو الگ کر دیا لیکن اس کو معمولی خرچ دیتے رہے۔ پہلی بیوی سے ان کے دو بیٹے تھے لیکن ان کی تعلیم و تربیت کی کوئی پروا نہیں کی۔

ء میں انھوں نے سب آردینیٹ جج اور پھر خفیفہ عدالت کے جج کے عہدہ پر رقی پائی۔اور علی گڑھ سمیت مخلف مقامات پر ان کے تبادلے ہوتے رہے۔ 1905ء میں وہ سیشن جج کے عہدے سے ریٹائر ہوئے اور باقی زندگی الہ اباد میں گزاری۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انکی دوسری بیوی زیادہ دن زندہ نہیں رہیں ۔اکبر اس صدمہ سے سنبھل نہیں پاے تھے کہ دوسرے بیوی کے بطن سے پیدا ہونے والا ان کا جواں سال بیٹا،جس سے ان کو بہت محبت تھی، چل بسا۔ ان صدمات نے ان کو پوری طرح توڑ کر رکھ دیا اور وہ مسلسل بیمار رہنے لگے۔فاطمہ صغری سے اپنے دوسرے بیٹے عشرت حسین کو انھوں نے لندن بھیج کر تعلیم دلائی۔ پہلی بیوی خدیجہ خاتون 1920ء تک زندہ رہیں لیکن ان کو "ؑعشرت منزل" میں قدم رکھنے کی کبھی اجازت نہیں ملی۔ 1907 میں حکومت نے اکبر کو "خان بہادر" کا خطاب دیا اور ان کو الہ باد یونیورسٹی کا فیلو بھی بنایا گیا۔ اکبر نے 9 ستمبر 1921ء میں وفات پائی۔