اخترالایمان

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

اخترالایمان اردو نظم کے اُن اہم جدید شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے روایت کی تقلید کے بجائے فرد کی داخلی سچائی کو اپنی شاعری کا مرکز بنایا۔ ان کا اصل نام اختر حسین تھا اور وہ 12 نومبر 1915ء کو نجیب آباد، ضلع بجنور (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی، جہاں جدید فکری رجحانات، مغربی فلسفے اور نفسیاتی شعور نے ان کی فکری تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔ علی گڑھ کا علمی ماحول ان کی شخصیت میں سوال اٹھانے کی جرأت اور فکری خودمختاری پیدا کرنے کا سبب بنا۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد اخترالایمان نے بمبئی (ممبئی) میں قیام اختیار کیا اور فلمی صنعت سے بطور مکالمہ نگار وابستہ ہو گئے، تاہم شاعری ان کی اصل شناخت بنی رہی۔ قیامِ پاکستان کے بعد بھی انہوں نے ہندوستان میں رہنے کو ترجیح دی۔ وہ ترقی پسند تحریک کے اثرات سے واقف تھے، مگر اس کے نعرہ باز اور نظریاتی دباؤ سے خود کو الگ رکھا۔ ان کی شاعری فرد کی نفسیاتی کشمکش، سماجی جبر، یادِ ماضی اور وجودی تنہائی کا گہرا اور بے لاگ اظہار ہے، جس میں رومانویت کے بجائے تلخی، خودکلامی اور فکری صداقت نمایاں نظر آتی ہے۔

اخترالایمان بنیادی طور پر نظم کے شاعر تھے اور اردو نظم کو ایک نیا فکری وقار عطا کیا۔ ان کے شعری مجموعوں میں گرداب، تاریک سیارہ، آبِ رواں، بنتِ لبوس، یادیں اور زمین کا قرض شامل ہیں، جو اردو نظم کے ارتقا میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں سہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 9 مارچ 1996ء کو ممبئی میں ان کا انتقال ہوا، مگر ان کی شاعری آج بھی قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے اور اردو نظم میں فرد کی داخلی سچائی کی توانا آواز کے طور پر زندہ ہے۔