نقرئی گھنٹیاں سی بجتی ہیں دھیمی آواز میرے کانوں میں دور سے آ رہی ہو تم شاید بھولے بسرے ہوئے زمانوں میں اپنی میری شکایتیں شکوے یاد کر کر کے ہنس رہی ہو کہیں
اختر الایمان