فطرت کو خرد کے روبرو کر
تسخیر مقام رنگ و بو کر
تو اپنی خودی کو کھو چکا ہے
کھوئی ہوئی شے کی جستجو کر
تاروں کی فضا ہے بیکرانہ
تو بھی یہ مقام آرزو کر
عریاں ہیں ترے چمن کی حوریں
چاک گل و لالہ کو رفو کر
بے ذوق نہیں اگرچہ فطرت
جو اس سے نہ ہو سکا وہ تو کر
علامہ اقبال
Fitrat ko khirad ke rubaru kar
Taskheer-e-makaam-e-rang-o-boo kar
Tu apni khudi ko kho chuka hai
Khoi hui shai ki justuju kar
Taaron ki faza hai bekaraana
Tu bhi ye makaam-e-aarzoo kar
Uryan hain tere chaman ki hoorain
Chaak-e-gul-o-lala ko rafu kar
Be-zauq nahin agarche fitrat
Jo us se na ho saka woh tu kar
علامہ ڈاکٹر محمد اقبال 9 نومبر 1877 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کی ابتدائی تعلیم بھی انہی کے شہر میں ہوئی اور بعد میں انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے فلسفہ میں بی اے اور ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ تعلیم کے سلسلے میں وہ انگلینڈ گئے جہاں انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفہ میں تعلیم حاصل کی اور بعد میں جرمنی کے لیپزگ یونیورسٹی سے "The Development of M...
مکمل تعارف پڑھیں