ہر شے مسافر ہر چیز راہی
کیا چاند تارے کیا مرغ و ماہی
تو مرد میداں تو میر لشکر
نوری حضوری تیرے سپاہی
کچھ قدر اپنی تو نے نہ جانی
یہ بے سوادی یہ کم نگاہی
دنیائے دوں کی کب تک غلامی
یا راہبی کر یا پادشاہی
پیر حرم کو دیکھا ہے میں نے
کردار بے سوز گفتار واہی
علامہ اقبال
Har shai musafir har cheez raahi
Kya chand tare kya murgh-o-maahi
Tu mard-e-maidan tu mir-e-lashkar
Noori Huzoori tere sipahi
Kuch qadar apni tu ne na jaani
Ye be-savadi ye kam-nigahi
Dunya-e-doon ki kab tak ghulami
Ya rahbi kar ya badshahi
Peer-e-haram ko dekha hai main ne
Kirdaar be-soz guftaar-e-waahi
علامہ ڈاکٹر محمد اقبال 9 نومبر 1877 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کی ابتدائی تعلیم بھی انہی کے شہر میں ہوئی اور بعد میں انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے فلسفہ میں بی اے اور ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ تعلیم کے سلسلے میں وہ انگلینڈ گئے جہاں انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفہ میں تعلیم حاصل کی اور بعد میں جرمنی کے لیپزگ یونیورسٹی سے "The Development of M...
مکمل تعارف پڑھیں