search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
رابطہ
الطاف حسین حالی
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
وصل کا اس کے دل زار تمنائی ہے
واں اگر جائیں تو لے کر جائیں کیا
اس کے جاتے ہی یہ کیا ہو گئی گھر کی صورت
رنج اور رنج بھی تنہائی کا
میں تو میں غیر کو مرنے سے اب انکار نہیں
کوئی محرم نہیں ملتا جہاں میں
خوبیاں اپنے میں گو بے انتہا پاتے ہیں ہم
کر کے بیمار دی دوا تو نے
کہہ دو کوئی ساقی سے کہ ہم مرتے ہیں پیاسے
کبک و قمری میں ہے جھگڑا کہ چمن کس کا ہے
جنوں کار فرما ہوا چاہتا ہے
جیتے جی موت کے تم منہ میں نہ جانا ہرگز
عشق کو ترک جنوں سے کیا غرض
حشر تک یاں دل شکیبا چاہئے
حقیقت محرم اسرار سے پوچھ
حق وفا کے جو ہم جتانے لگے
ہے یہ تکیہ تری عطاؤں پر
ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں
گو جوانی میں تھی کج رائی بہت
گھر ہے وحشت خیز اور بستی اجاڑ
غم فرقت ہی میں مرنا ہو تو دشوار نہیں
دل سے خیال دوست بھلایا نہ جائے گا
دل کو درد آشنا کیا تو نے
دھوم تھی اپنی پارسائی کی
بری اور بھلی سب گزر جائے گی
بات کچھ ہم سے بن نہ آئی آج
اب وہ اگلا سا التفات نہیں
آگے بڑھے نہ قصۂ عشق بتاں سے ہم