امیر مینائی

شاعر

تعارف شاعری

آشکارا راز حسن کبریا کیونکر ہوا

آشکارا راز حسن کبریا کیونکر ہوا
رہ کے سو پردوں میں عالم آشنا کیونکر ہوا

اے مسیحا میرے دشمن ہوں شفا سے ناامید
تو سلامت درد میرا لا دوا کیونکر ہوا

اپنا بندہ بھی مجھے کہتا ہے پھر محتاج بھی
تجھ سے شاہنشاہ کا بندہ گدا کیونکر ہوا

پوچھ لے قاتل زبان تیغ سے سب سر گذشت
کشتے کس منہ سے بتائیں کیا ہوا کیونکر ہوا

جیتے جی برسوں میں تڑپا تب نہ لی تم نے خبر
مر گئے پر پوچھتے ہو کیا ہوا کیونکر ہوا

میں نہ مانوں گا کہ دی اغیار نے ترغیب قتل
دشمنوں سے دوستی کا حق ادا کیونکر ہوا

میں نہ مانوں گا نہ آئینے کا ہے سارا قصور
خود بہ خود وہ خود پسند و خود نما کیونکر ہوا

اس نے کھینچی تیغ یاں سر جھک گیا قصہ مٹا
خلق یہ کیوں پوچھتی ہے ماجرا کیونکر ہوا

چاٹتی ہے کیوں زبان تیغ قاتل بار بار
بے نمک چھڑکے یہ زخموں میں مزا کیونکر ہوا

الفت گیسو بلا تھی مر گیا پھنس کر امیرؔ
ہے بڑا جھگڑا نہ پوچھو فیصلہ کیونکر ہوا

امیر مینائی