درد پا ہوگا شکست کاسۂ سر کا جواب
غافلوں کو دے گی میری لاش ٹھوکر کا جواب
شوق سے لکھیں مرے عصیاں فرشتے رات دن
ایک رحمت اس کی ہے اس سارے دفتر کا جواب
ایک دن وہ میرے گھر ہے ایک دن وہ اس کے گھر
غیر کی قسمت بھی ہے میرے مقدر کا جواب
جب میں کہتا ہوں کہو گے کیا خدا کے سامنے
کہتے ہیں تم کو بتا دیں روز محشر کا جواب
نرم دل سے نرم دل ہیں سخت گو سے سخت گو
شیشے کا شیشہ یہاں پتھر ہے پتھر کا جواب
اس نے خط بھیجا جو مجھ کو ڈاک پر ڈاکہ پڑا
یار کیا کرتا نہ تھا میرے مقدر کا جواب
منہ چڑھاؤ اور کا تیوری چڑھاؤ اور پر
آئینہ ہوں منہ پہ دوں گا میں برابر کا جواب
پھینک دو خط لکھ کے قاصد سے جو تم بیزار ہو
اڑ کے آئے گا جو ہے میرے مقدر کا جواب
منہ کی کھائی سیکڑوں بال آئنہ میں پڑ گئے
لے کے آیا تھا تری زلف معنبر جو جواب
امیر مینائی