search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
رابطہ
امیر مینائی
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
تیر پر تیر لگاؤ تمہیں ڈر کس کا ہے
تیر پر تیر لگاؤ تمہیں ڈر کس کا ہے
ایک دل ہمدم مرے پہلو سے کیا جاتا رہا
کچھ خار ہی نہیں مرے دامن کے یار ہیں
تمہیں کو جانا تمہیں کو سمجھے تمام عالم سے تنگ ہو کر
خط جو نکلا بوسۂ رخسار آساں ہو گیا
ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے
مجھ مست کو مے کی بو بہت ہے
بات کرنے میں تو جاتی ہے ملاقات کی رات
سرِ راہِ عدم گورِ غریباں طرفہ بستی ہے
پھولوں میں اگر ہے بو تمہاری
ہٹاؤ آئنہ امیدوار ہم بھی ہیں
اے ضبط دیکھ عشق کی ان کو خبر نہ ہو
ہم سر زلف قد حور شمائل ٹھہرا
ہوا جو پیوند میں زمیں کا تو دل ہوا شاد مجھ حزیں کا
جب خوبرو چھپاتے ہیں عارض نقاب میں
میں رو کے آہ کروں گا جہاں رہے نہ رہے
یہ سب ظہورِ شانِ حقیقت بشر میں ہے
مرے بس میں یا تو یارب وہ ستم شعار ہوتا
ہیں نہ زندوں میں نہ مردوں میں کمر کے عاشق
تیرکھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر
کسی زہرہ شمائل کا تصور ہے مرے دل میں
درد پا ہوگا شکست کاسۂ سر کا جواب
دور سے آئے ہیں ہم اے ساکنان کوئے دوست
رند خراب تیرا وہ مے پیے ہوئے ہے
آشکارا راز حسن کبریا کیونکر ہوا
جب سے باندھا ہے تصور اس رخ پر نور کا
فراق یار نے بے چین مجھ کو رات بھر رکھا
چاند سا چہرہ نور کی چتون ماشاء اللہ ماشاء اللہ
گھر گھر تجلیاں ہیں طلب گار بھی تو ہو
قبلۂ دل کعبۂ جاں اور ہے
مٹ گئے ہم، تو مِلا ہم کو ٹھکانا تیرا
دل جُدا، مال جدا، جان جدا لیتے ہیں
خنجرِ قاتل نہ کر اتنا روانی پر گھمنڈ
منہ پھر نہ کر وطن کی طرف یوں وطن کو چھوڑ
خنجرِ قاتل نہ کر اتنا روانی پر گھمنڈ
منہ پھر نہ کر وطن کی طرف یوں وطن کو چھوڑ
قاضی بھی اب تو آئے ہیں بزمِ شراب میں
اِک جانِ ناتواں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
چھوٹے جو بوئے گل کی طرح سے چمن کو چھوڑ
چھوٹے جو بوئے گل کی طرح سے چمن کو چھوڑ
کہتا ہے حُسن میں نہ رہوں گا حجاب میں
ہم آج پیر ہوئے کیا کبھی شباب نہ تھا
تو ہنس کے بولے وہ منہ قابل نقاب نہ تھا
سب تڑپنے تلملانے کا مزا جاتارہا
یہ کلیجا کہاں سے لائیں ہم
ملک الموت ہیں دربان درِ خانۂ عشق
کس کے آگے جا کے سر پھوڑوں الٰہی کیا کروں؟
نگہ نیچی کیئے وہ سامنے مدفن کے بیٹھے ہیں
یہ بادل جب برستے ہیں لبِ کوثر برستے ہیں
اجل شرما گئی سمجھی کہ مجھ کو پیار کرتے ہیں
فنا کیسی بقا کیسی جب اُس کے آشنا ٹھہرے
آج کی بات کو کیوں کل پہ اٹھا رکھا ہے
حلقے میں رسولوں کے وہ ماہِ مدنی ہے
میں روتا ہوں، اس کو ہنسی سوجھتی ہے
ہنس کے فرماتے ہیں وہ دیکھ کے حالت میری
اچھے عیسی ہو مریضوں کا خیال اچھا ہے
اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوں
ہم لوٹتے ہیں وہ سو رہے ہیں
خموشی ظلم چرخ دیو پیکر کا جواب
دل کو طرز نگۂ یار جتاتے آئے
سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ