آنند بخشی برصغیر کے مقبول ترین نغمہ نگاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے فلمی گیتوں کو عام دلوں کی زبان اور روزمرہ جذبات کا آئینہ بنا دیا۔ 21 جولائی 1930ء کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ اصل نام آنند پرکاش بخشی تھا۔ کم عمری میں ہی تقسیم کا طوفان آیا اور ان کا خاندان بھارت منتقل ہوگیا۔ ابتدا میں وہ فوج میں شامل ہوگئے، مگر لفظوں کی کشش، دھنوں کا جادو اور انسانی جذبات کی بےقرار لہر بالآخر انہیں موسیقی کی دنیا میں لے آئی۔ یہی جستجو انہیں بمبئی کے فلمی حلقوں تک لے گئی، جہاں ان کے گیتوں نے جلد ہی دلوں کی سلطنت میں جگہ بنا لی۔
آنند بخشی کی شاعری اور نغمہ نگاری کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ عام انسان کے دکھ، انتظار، محبت، خواہش، جدائی اور امید کو سیدھے دل تک پہنچا دینے والے انداز میں لکھتے تھے۔ ’’یہ شاہیں زرا ٹھہر جا‘‘ سے لے کر ’’ہمTum کے دن جوان‘‘ اور ’’چنگاری کوئی بھڑکے‘‘ جیسے گیت اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ نہ صرف لفظ چنتے تھے بلکہ جذبات کا رقص بھی لکھ دیتے تھے۔ ان کے گیتوں میں سادگی، خلوص اور زندگی کی دھڑکن پوری تاثیر کے ساتھ سنی جا سکتی ہے۔
فلم انڈسٹری میں انہیں بے شمار اعزازات ملے اور تقریباً چار دہائیوں تک انہوں نے بالی وڈ کو ایسے نغمے دیے جو آج بھی زبانوں پر مٹھاس کی طرح گھل جاتے ہیں۔ 30 مارچ 2002ء کو ان کا انتقال ہوا، مگر ان کے گیت اب بھی ریڈیو کی ہوا، اسٹیج کی روشنی اور یادوں کی راہگزر پر زندہ ہیں۔ آنند بخشی کا نام ہمیشہ اُن خلاق نغمہ نگاروں میں رہے گا جنہوں نے گیت کو دل کی زبان بنا دیا۔