انجم سلیمی

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

انجم سلیمی اردو اور پنجابی کے معروف معاصر شاعر، ریڈیو اینکر اور ادبی و ثقافتی کارکن ہیں۔ وہ 10 اکتوبر 1963ء کو فیصل آباد (سابقہ لائل پور) میں ایک کاروباری گھرانے میں پیدا ہوئے۔ اگرچہ ان کا خاندانی پس منظر ادبی نہ تھا، تاہم بچپن ہی سے مطالعے اور تخلیقی جستجو نے انہیں ادب کی طرف مائل کر دیا۔ انہوں نے کم عمری میں ہی لکھنا شروع کیا اور ان کی ابتدائی تحریریں بچوں کے رسائل میں شائع ہوئیں، جو ان کے ادبی سفر کا نقطۂ آغاز ثابت ہوئیں۔

انجم سلیمی نے اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں شاعری کی اور جلد ہی اپنی انفرادی آواز منوائی۔ ان کی پہلی پنجابی شعری تصنیف سُکّے اتھرو 1982ء میں شائع ہوئی، جس کے بعد سنتاپ (1996ء) نے انہیں ادبی شناخت کے ساتھ ساتھ مسعود کھدرپوش ایوارڈ بھی دلایا۔ بعد ازاں ان کا نثری نظموں پر مشتمل مجموعہ ایک قدیم خیال کے نگرانی میں (2005ء) شائع ہوا، جبکہ اردو شاعری کا مجموعہ میں 2021ء میں منظرِ عام پر آیا۔ ان کی شاعری میں تنہائی، داخلی کرب، انسانی رنج و الم، وقت، تعلقات، سماجی اقدار اور انسانی آزادی جیسے موضوعات نہایت گہرائی اور جدید حسّاسیت کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں، جن میں کلاسیکی روایت اور جدید شعور کا حسین امتزاج ملتا ہے۔

شاعری کے ساتھ ساتھ انجم سلیمی نے ادبی و ثقافتی سرگرمیوں میں بھی بھرپور کردار ادا کیا اور ریڈیو کے ذریعے فکری و سماجی شعور کو فروغ دیا۔ فیصل آباد اور ملک بھر کی ادبی محافل میں ان کی فعال موجودگی نے انہیں ایک معتبر ادبی حوالہ بنا دیا۔ ان کا کلام پاکستان کے علاوہ بھارت اور دیگر اردو حلقوں میں بھی پڑھا اور سنا جاتا ہے، جو ان کی شاعری کی عالمگیر معنویت کا ثبوت ہے۔ ناقدین اور اہلِ قلم انجم سلیمی کو معاصر اردو و پنجابی شاعری کی ایک سنجیدہ، فکری اور توانا آواز تسلیم کرتے ہیں، جن کی تخلیقات انسانی تجربے کی گہرائی اور فکری بالیدگی کی نمائندہ ہیں۔