انجم سلیمی

شاعر

تعارف شاعری

اچھی گزر گئی ، بھلے رو کر گزر گئی

اچھی گزر گئی ، بھلے رو کر گزر گئی
ویسے بھی آدھی عمر تو سو کر گزر گئی
دامن کو چھوڑ ، اب مرے دل پر لگا کے دیکھ
بارش تو ۔۔۔۔۔ میرے داغ کو دھو کر گزر گئی
اک موج میرے سر میں سمانے کو آئی تھی
مجھ کو مرے لہو میں بھگو کر گزر گئی
پھر کیوں نہ زندگی مجھے دھتکارتی پھرے
جو موت مجھ کو مار کے ٹھوکر ، گزر گئی
میں چپ کھڑا تھا شور تمنا سے بے نیاز
دنیا مرے وجود سے ہو کر گزر گئی

انجم سلیمی