اک دیا ، روز جگاتا ہے مُجھے
سائے کا جسم بناتا ہے مُجھے
ان کہی بات بھی سن لیتا ہوں
غیب سے بھی نظر آتا ہے مجھے
آئینوں نے بھی کہاں دیکھے ہیں
وقت جو چہرے دکھاتا ہے مُجھے
کیسا بنتا ہے وہ میرے آگے
اور پھر کیسا بناتا ہے مُجھے
اپنی تنہائی مٹانے کے لیئے
ایک ویرانہ بلاتا ہے مُجھے
انجم سلیمی