انجم سلیمی

شاعر

تعارف شاعری

چلنے دو سب کو اپنی راہوں میں

چلنے دو سب کو اپنی راہوں میں
یہ زمین سب کی ہے...
یہاں اذان بھی گونجتی ہے،
گھنٹیاں بھی بجتی ہیں،
کہیں نیاز کے دیے جلتے ہیں،
کہیں درود کی محفلیں سجی ہوتی ہیں...
ہر دل اپنے عقیدے میں آباد ہے،
ہر زبان اپنی صدا میں سچی۔
کوئی شبیر کا نوحہ پڑھے یا میلاد کی خوشبو بکھیرے —
یہ سب محبت کے راستے ہیں، بندگی کی جھلکیاں ہیں،
اور بندگی کی اصل یہ نہیں کہ دوسرا کیا کر رہا ہے،
اصل یہ ہے کہ آپ کیا سوچتے ہیں، کیا بولتے ہیں، اور کیسے جیتے ہیں۔
کسی کا فرقہ بدلنے سے پہلے،
خود کو بدلنے کی ضرورت ہے...
کسی کے عقیدے پر تنقید کرنے سے پہلے،
دل میں احترام پیدا کرنا لازم ہے...
کیونکہ زبان سے نکلنے والا ایک لفظ
کسی کی صدیوں کی وارثت کو زخمی کر سکتا ہے۔
آیئے!
ہم اختلاف میں بھی احترام رکھیں،
ہماری راہیں الگ سہی، لیکن زمین ایک ہے،
خدا ایک ہے،
اور اُس کے بندے بھی اُس کی رحمت کے سائے میں برابر کے شریک۔
کسی کی راہ آپ کو پسند نہ ہو، تو مت جائیے،
مگر راستہ روک کر کسی کے سفر کو تلخ نہ کیجیے۔

انجم سلیمی