ہم بےوطن خوابوں کے جولاہے ہیں
بہت سی آوازیں جمع کر کے
ایک چیخ بنائی جاسکتی ہے.......
بہت تھوڑے لفظوں سے
ایک باغی نظم بنی جاسکتی ہے
لیکن
زندہ قبرستان میں ایک نظم کا کتبہ کافی نہیں
قبریں دم سادھے پڑی ہیں
ہماری مائیں مردہ بچوں کو جنم دے رہی ہیں
لاشیں شناخت کرتے ہجوم کو اپنا چہرہ یاد نہیں آتا
ہم زندگی سے صحبت کرنے نکلے تھے
اور زندگی نے ہمارے خصیوں سے کینچے بنالئیے
ہمارے لہو میں چیونٹیاں رینگتی ہیں
اور ہم اپنی مرضی سے کھجلی تک نہیں کرسکتے
قطار میں کھڑے کھڑے ہم دوسروں سے مختلف کیسے ہو گئے!!!
زندگی میزان ہوتی تو ہم اس کے پلڑے اپنے وجودوں سے بھر دیتے
مگر کیا کریں کہ ہم خود اپنی نظروں میں بہت بےوزن ہیں
ہتھیلیوں میں سوراخ ہوں تو آنکھیں کہاں سنبھالیں
ہم نے صرف چہرے نبھائے، رشتے نہیں
پیاسی زمینوں میں آنسو کاشت کرکے بھی بوند بھر ہریالی نہیں کھلی
ہم ساری عمر اپنے خوابوں کے جولاہے بنے رہے
اور اپنے بچوں کے لیے ایک سایہ دار پرچم نہ بن سکے
ہماری مٹی محض مٹی رہی
کبھی وطن نہ بن پائی.....
انجم سلیمی