انجم سلیمی

شاعر

تعارف شاعری

ہنسی پرانی ہو سکتی ہے ، آنسو تازہ رہتا ہے

ہنسی پرانی ہو سکتی ہے ، آنسو تازہ رہتا ہے
دکھ سہنے سے زندہ ہونے کا اندازہ رہتا ہے
ایک ہی مطلب ہو سکتا ہے ٹوٹے کانچ لگانے کا
ان دیواروں کے اندر بھی اک دروازہ رہتا ہے
کان لگائے رہتا ہوں اک بھید بھری سرگوشی پر
ورنہ روز تعاقب میں کوئی آوازہ رہتا ہے
دو جسموں کا لمس پڑا ہے اک کروٹ کی دوری پر
لا حاصل کی مد میں ابھی کوئی خمیازہ رہتا ہے
تم پر جچتی ہے زیبائش،صاف گھروں میں رہتے ہو
ہم آئینہ ساز ہیں ، ہم پر دھول کا غازہ رہتا ہے
دل میں نومولود تمنا جتنی قبر کی جگہ نہیں
کاندھوں پر ہر روز کسی خواہش کا جنازہ رہتا ہے

انجم سلیمی