انجم سلیمی

شاعر

تعارف شاعری

ہوس کوئی برتن نہیں چھوڑتی

ہوس کوئی برتن نہیں چھوڑتی
کیسے کیسے گناہوں کی لذت میں لت پت پڑی بےخبر سورہی ہے یہ بستی
مگر بھوک پہلو میں کروٹ پہ کروٹ بدلتے ہوئے جاگتی ہے
یہ بستی نہیں، بربریت بھرا ایسا برتن ہے جو بس چھلکنے کے نزدیک ہے
کیا کریں. ؟
کیا کریں؟ پیٹ کی بھوک ہوتی تو تازہ پھلوں کی مہک رس بھرے باغ میں کھینچ لاتی ہمیں
یہ کوئی اور ہی بھوک ہے جو مٹائے نہیں مٹ رہی
یہ کوئی اور ہی آگ ہے جو بجھائے نہیں بجھ رہی
آدھی شب جا چکی..
آدھی شب جا چکی.خواہشوں سے بھرے برتنوں کو کھلے چھوڑنا بھی مناسب نہیں
(اپنے جیسے کئی سونگھتے پھر رہے ہیں)
بھائی تم کو پتہ ہے اگر بھوک جاگی ہوئی ہو
تو پھر آنکھ میں نیند پڑتی کہاں ہے....!
سو تم ہی کہو کیا ارادہ ہے.؟؟
کیا مشورہ ہے..؟؟
ضبط ہوتا نہیں..
آگ بجھتی نہیں..
بھوک مٹتی نہیں
موت بھی صبر کی طرح آتی نہیں
کیا کریں..؟
کیا کریں؟ علتوں سے لبالب بھرا خاک داں کا پیالہ الٹ دیں؟
یا آب ملامت سے دھو کر کسی طاق توبہ میں محفوظ کر دیں..!
جبر کر لیں یا دیوار و در سے مٹا دیں خدائی غضب کے نوشتے..!
اشتہا بھی قیامت کی ہے..
آج کی شب کہاں بھوک اپنی مٹائیں..؟
چلو حضرت لوط کے گھر میں دعوت اڑائیں
سنا ہے وہاں ان کے ہاں آج مہمان ہیں دو فرشتے
معذرت اے بہت نیک دل محترم میزباں
یہ ہوس ہے....
ہوس کوئی برتن نہیں چھوڑتی........

انجم سلیمی