انجم سلیمی

شاعر

تعارف شاعری

ہے زندگی کی طرح گرچہ آنی جانی موت

ہے زندگی کی طرح گرچہ آنی جانی موت
پڑی ہوئی ہے مگر سب کو موت، یعنی موت
کسی نے نوچ لئے اس کے بال و پر شائد
زمیں پہ رینگتی پھرتی ہے آسمانی موت
سیاہ پڑتی ہوئی آنکھ میں جھماکا ہوا
اتر رہی ہے رگ و پے میں ارغوانی موت
کہاں پہ کیسے،کسے بے خبر دبوچنا ہے
اک ایک سانس سے واقف ہے یہ گیانی موت
کوئی بزرگ بتائے گا لمس کے معنی ؟
نئے لغت میں تو لکھا ہے ،ناگہانی موت
ہمیں سکوت کی ترسیل سے علاقہ ہے
ہماری ٹھیک سے کرتی ہے ترجمانی ،موت

انجم سلیمی