جس تمازت کی طلب دل میں ہے۔کیا سر میں بھی ہے
ورنہ کچھ دھوپ تو گلیوں میں بھی ہے گھر میں بھی ہے
اک سلگتی ہوئی آواز نے چونکایا مُجھے
دشت کا ایک کنارہ تو سمندر میں بھی ہے
بھوکے حشرات نے کیا حشر کیا ہے میرا
میں کوئی رزق نہیں تھا کہ جو پتھر میں بھی ہے
ناگواری میں پڑی روح کی سلوٹ ہی نہ ہو
شب جو پیشانی پہ تھی ۔صبح جو بستر میں بھی ہے
وہ اداسی جو نمو پاتی رہی ہے مجھ میں
اس کی تھوڑی سی جھلک ۔شام کے منظر میں بھی ہے
انجم سلیمی