کبھی کبھار جو اپنے گھر جاتا ہوں میں
اک آسیب کے کہنے پر جاتا ہوں میں
دل و دماغ پہ دستک ہوتی رہتی ہے
خود میں جھانکتا ہوں تو ڈر جاتا ہوں میں
مجھے ہجوم میں رہنے دو،تمہیں علم نہیں
تنہائی میں بھیڑ سے بھر جاتا ہوں میں
نیند آنے تک اپنے ساتھ گزارتا ہوں
سوجانے کے بعد کدھر جاتا ہوں میں
بعد میں بھی تو وقت نکال کے آؤ گے
فرصت ہے تو پہلے مر جاتا ہوں میں
جھیل کو بھی حیرانی تو ہوتی ہو گی
کیسے چاند کے پار اتر جاتا ہوں میں
جیسے میں دنیا کا آخری آدمی ہوں
خود سے ملنے ادھر ادھر جاتا ہوں میں
انجم سلیمی