انجم سلیمی

شاعر

تعارف شاعری

خود اپنی ہی نظر سے گر کے چھوٹا ہوگیا ہوں

خود اپنی ہی نظر سے گر کے چھوٹا ہوگیا ہوں
جدا رہ کر بھی میں دنیا کا حصّہ ہوگیا ہوں
بہت بد شکل آوازیں ہیں میرے چاروں جانب
جنہیں سن سن کے میں بھی ان کے جیسا ہو گیا ہوں
میں اپنے آپ سے بھی جھوٹ بولے جارہا تھا
خود اپنے سامنے ہی رو کے سچا ہوگیا ہوں
یہ مہمانی زیادہ دیر چل سکتی نہیں تھی
میں اپنی میزبانی سے علیحدہ ہوگیا ہوں
نظر آتے نہیں ماں باپ بھی ،بچے بھی ،گھر بھی
میں اپنے عشق میں کیا اتنا انددھا ہوگیا ہوں
سمجھتے ہی نہیں احباب بھی جذبات میرے
میں تنہا تو نہیں لیکن اکیلا ہوگیا ہوں
اب اوروں کی زبانی سن رہا ہوں اپنی بابت
کوئی دن پہلے میں ماضی کا قصہ ہو گیا ہوں

انجم سلیمی