کیا ہے قصد تو سو بار سوچ ، حوصلہ کر
یہ راہ عشق ہے ، دیوار سے بھی مشورہ کر
اسے گلی سے تہی دست مت گزرنے دے
شبِ سیاہ کو میرا چراغ ہدیہ کر
دعا کے ساتھ مناسب ہے حیلہ جوئی بھی
تو صرف تکیہء درویش پر نہ تکیہ کر
میں آسمان سے سورج اتار لاؤں گا
یہ خواب ہے تو مرے خواب پر بھروسہ کر
کبھی کلام تو کر اپنے اس فقیر کے ساتھ
مُجھے بھی رس بھرے دوچار لفظ صدقہ کر
انجم سلیمی