موت کیا پوری ہوچکی تھی مری ؟
قبر میں آنکھ کھل گئی تھی مری!
سارا عالم رکا ہوا تھا وہاں
اور بس نبض چل رہی تھی مری
پہلے پہلے کوئی نہ تھا مجھ میں
میں تھا یا پھر فسردگی تھی مری
شاہ رگ سے گزر کے آیا ہوں
وہ بھی خالی پڑی ہوئی تھی مری
جانے کس کو سراہتے رہے لوگ
مجھ میں کُچھ تھا تو بس کمی تھی مری
سب کے شانوں پہ ایک چہرہ تھا
جن پہ صورت بنی ہوئی تھی مری
پاؤں کس خاک پر پڑا کہ جبیں
آسماں پر جھکی ہوئی تھی مری
جب جڑوں سے مُجھے اکھاڑا گیا
شاخ اک سبز ہو رہی تھی مری
انجم سلیمی