مری اک اپنی دنیا تھی
کسی ہموار بستر پر
میں نیل و نیل اوندھے منہ پڑا ہوں
مُجھے درکار ہیں کچھ نیند کی ٹکیاں
مُجھے اک خواب میں واپس پلٹنا ہے
عجب اک خواب تھا وہ
مُجھے جس کے لئے سونا نہ پڑتا تھا
میں سارا سارا دن اس خواب کی دیوار سے لپٹا پڑا رہتا
جہاں ہر وقت گھیرے میں لئے رکھتی تھی
میری موت کی خوشبو
وہاں اک باغ تازہ تھا
جہاں میں منہ اندھیرے سیر کو جاتے ہوئے ڈرتا نہیں تھا
پری زادوں کی صحبت میں
مُجھے اس خواب سے باہر نکلنے کا خیال آتا نہیں تھا
اگرچہ واہموں کی زرد بیلوں نے مُجھے ڈھانپا ہوا تھا
مگر پھر بھی بہت کچھ دیکھنے کو تھا
مگر دیکھا نہ جاتا تھا
پھٹی رہتی تھیں آنکھیں
اور آنکھوں میں مرے چاروں طرف میں تھا
یہ کیسی خواب کی حیرت سرا تھی
جہاں چھوٹی بڑی ہر اک جسامت میں
مرے چاروں طرف میں تھا
بہت دن تک میں اپنے سکر میں
اپنی طرف اور اپنے ہی اطراف گھن چکر بنا پھرتا رہا
میں جیسے آپ ہی اپنے تعاقب میں
خود اپنی سمت بڑھتا آرہا تھا
میں خود کو چھو رہا تھا خود __
خود سے مل رہا تھا میں
عجب مستی کا عالم تھا ،قدم سیدھے نہ پڑتے تھے
زمیں لٹو کی صورت تھی مرے سر پر
عجب چکر تھا میرے چار جانب
میں اس چکر کی الٹی سمت گھوما
کچھ قدم چلتا رہا اور تیز تر چلنے کی کوشش میں
میں اپنے جذب میں سرشار
اس چکر سے ٹکرایا تو چکرایا ہوا
اسں خواب سے باہر نکل آیا
میں گھبرایا ہوا اوپر ہی اوپر گررہا تھا
مُجھے آواز دی میں نے
میں خود کو تھامنے کی کوشش ناکام میں آگے بڑھا
اور منہ کے بل آکر گرا اس آسماں کے نیلے اور ہموار بستر پر
سو اب اس آسماں کے نیلے اور ہموار بستر پر
میں نیل و نیل اوندھے منہ پڑا ہوں
نیلے آسماں کا فرش کالا ہورہا ہے
مرے سر پر کھڑی ہے شام
پھٹا جاتا ہے سر ۔۔۔۔۔
زمیں سردرد کی ٹکیہ نہیں ہے
جسے حلقوم میں رکھ کر نگلنے کے لئے دو گھونٹ کافی ہوں
سمندر چاہئیں مجھ کو ۔۔۔۔۔۔۔
سمندر اوک میں بھرتے نہیں ہیں
کوئی برتن نہیں ایسا
میں جس برتن میں اپنی پیاس بھر لوں
بس اک دل ہے
مگر دل بھی بھرا بیٹھا ہے خالی آسماں سے
مُجھے درکار ہیں کچھ نیند کی ٹکیاں
میں اپنے خواب میں واپس پلٹنا چاہتا ہوں
مری اک اپنی دنیا ہے
وہی دنیا ۔۔۔۔۔۔
جو دنیا مجھ سے خالی ہوگئی ہے
انجم سلیمی