میں اس سے اپنے تعلق کو یوں بچاتا ہوں
وہ توڑتا ہے مُجھے ،اور میں ٹوٹ جاتا ہوں
یہ ایسا کون سا ہمدرد ہے بہت میرا
میں آئینے کو بھلا زخم کیوں دکھاتا ہوں
کبھی کبھی تو اداسی میں خود سے ملتے ہوئے
بے اختیار میں خود سے لپٹ بھی جاتا ہوں
جنہوں نے دیکھی نہیں پانیوں کی تنہائی
انہی کے واسطے میں کشتیاں بناتا ہوں
جو بول پڑتا تو سب کی زبان پر ہوتا
میں کم سخن ہوں ،سو کم کم سمجھ میں آتا ہوں
انجم سلیمی