انجم سلیمی

شاعر

تعارف شاعری

میں نے گوتم سے سیکھی ہوئی خامشی

میں نے گوتم سے سیکھی ہوئی خامشی
کی ریاضت میں خود سے تکلم کیا
تب کہیں گہری اور پوری یکسوئی سے
شانت چہرے پہ دھیما تبسم کیا
بھر گئیں میرے لفظوں میں شیرینیاں ،
بیج کھلنے لگے مجھ میں انجیر کے
میں نے برگد کی چھاؤں سے معنی چنے،
خلق بہتی ندی سے ترنم کیا
تاج رکھا مرے پاؤں میں تخت نے،
پیچھے مڑ کر نہ دیکھا مرے بخت نے
خواہشوں کی فصیلیں تنی رہ گئیں ،
لاکھ آسائشوں نے تلاطم کیا
سہل ایسے کیا رخصتی کا سماں،
دل کی شریانوں میں بھر لیا تھا دھواں
آنکھ کو جھلملاتی لویں سونپ دیں،
بالکونی سے مہتاب کو گم کیا
فتح کرنا مجھے کتنا آسان تھا ،
ہنس کے ملنے میں کب کوئی نقصان تھا
تم نے اچھی نگاہوں سے دیکھا تھا بس،
تیغ کھینچی نہ کوئی تصادم کیا
اے مرے عشق میں تیرا ممنون ہوں،
جو بھی ہوں تیری نسبت کا مرہون ہوں
میرے دن کی سیاہی میں روغن بھرا،
میرے شب کے چراغوں کو انجم کیا

انجم سلیمی