انجم سلیمی

شاعر

تعارف شاعری

نیند مبارک

نیند مبارک
خود ہی خود کو جھڑک جھڑک کر پوچھ رہا ہوں
الماری میں ٹنگا پڑا ہوں
مجھے اتارو، سامنے والی جیب میں دیکھو
اس میں میری بچی کچھی تنہائی ہوگی
مڑا تڑا کچھ میں بھی ہوں گا
گن کے بتاؤ، کتنا کتنا خود پر وہ سب خرچ کروں تو
کتنے روز نکال سکوں گا
کیا بولا؟ میں وہاں نہیں ہوں !!!
دائیں بائیں والی جیبوں میں بھی جھانکو
تھوڑا بہت تو مل جاؤں گا
.........اوہو
وہاں بھی ہو کا سناٹا ہے؟
دیکھو ... تھوڑی زحمت ہوگی، اندر والی جیب ٹٹولو
اک دو سکے، اک دو نوٹ بھی مل جاؤں تو مجھے بتانا
بےمصرف مصروف دنوں کی تنہائی سے چھٹے لے کر
آج کے دن تو خود کو گلے لگا کر مل لوں
محفلیں اپنے اپنے گھروں میں جمی ہوئی ہیں
دیکھو یہ اچھا موقع ہے
عید کا دن ہے
خود سے مل کر سوری کہہ لوں، قہقہے رو لوں
آج تو اپنی تنہائی سے لپٹ کے سو لوں
بھرا ہوا ہوں، ہلکا ہولوں

انجم سلیمی