search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
رابطہ
انجم سلیمی
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
دن لے کے جاؤں ساتھ اسے شام کر کے آؤں
خود اپنے ہاتھ سے کیا کیا ہوا نہیں مرے ساتھ
مجھے بھی سہنی پڑے گی مخالفت اپنی
اسے چھوتے ہوئے بھی ڈر رہا تھا
صلح کے بعد محبت نہیں کر سکتا میں
میں جب وجود سے ہوتے ہوئے گزرتا ہوں
سخت مشکل میں کیا ہجر نے آسان مجھے
بجھنے دے سب دئے مجھے تنہائی چاہیئے
فلک نژاد سہی سرنگوں زمیں پہ تھا میں
کاش
سحر کو کھوج چراغوں پہ انحصار نہ کر
دیوار پہ رکھا تو ستارے سے اٹھایا
مہاجر پرندوں کا سواگت
اک دوجے کو دیر سے سمجھا دیر سے یاری کی
عمر کی ساری تھکن لاد کے گھر جاتا ہوں
خاک چھانی نہ کسی دشت میں وحشت کی ہے
ظہور کشف و کرامات میں پڑا ہوا ہوں
درد وراثت پا لینے سے نام نہیں چل سکتا
یہ محبت کا جو انبار پڑا ہے مجھ میں
اس سے آگے تو بس لا مکاں رہ گیا
خود سے باہر بھی مجھے اپنا پتا کرنا ہے
آیئندگاں کی اداسی میں
وصال کی تیسری سمت
میں تمہارے لیے لے کے آیا ہوں
آدھی موت کا جنم
پرسہ
انحراف
ہم بےوطن خوابوں کے جولاہے ہیں
دِھی دا وَین
کیسی تکرا ر ِمن و تُو تننا ہا یا ہُو
میں نے گوتم سے سیکھی ہوئی خامشی
خود اپنی ہی نظر سے گر کے چھوٹا ہوگیا ہوں
نیند مبارک
اساں کتاب نوں پھانسی دتی
سجدہءشکر بھی ادا نہ ہوا
ہوس کوئی برتن نہیں چھوڑتی
او بھاویں لَکھ رمزاں مارے
کبھی کبھار جو اپنے گھر جاتا ہوں میں
ہے زندگی کی طرح گرچہ آنی جانی موت
ویسے تو خود بھی ہُوں گا اپنے ساتھ
قدم قدم سامنا ہوا شرمساریوں سے
جس تمازت کی طلب دل میں ہے۔کیا سر میں بھی ہے
سہل کب تھا، جو کام کرلیا ہے
ٹھیک نہ ہوں جب تک اندازے اندر سے
سلگ سلگ کے جو خود کو دھواں بناتا ہوں
میں اس سے اپنے تعلق کو یوں بچاتا ہوں
چُوہنڈی رُگھ بھریا تے دل تڑفا لیا
موت کیا پوری ہوچکی تھی مری ؟
چلنے دو سب کو اپنی راہوں میں
چوپایہ
خود اپنی ہی نظر سے گر کے چھوٹا ہوگیا ہوں
مری اک اپنی دنیا تھی
کاغذ تھا میں دیے پہ مجھے رکھ دیا گیا
اک دیا ، روز جگاتا ہے مُجھے
سہل کب تھا ، جو کام کر لیا ہے
ہنسی پرانی ہو سکتی ہے ، آنسو تازہ رہتا ہے
کیا ہے قصد تو سو بار سوچ ، حوصلہ کر
اچھی گزر گئی ، بھلے رو کر گزر گئی