انجم سلیمی کا کلام
- 01 دن لے کے جاؤں ساتھ اسے شام کر کے آؤں Din le ke jaaun saath, usay shaam kar ke aaun آواز میں دستیاب
- 02 خود اپنے ہاتھ سے کیا کیا ہوا نہیں مرے ساتھ Khud apne haath se kya kya hua nahin mere saath آواز میں دستیاب
- 03 مجھے بھی سہنی پڑے گی مخالفت اپنی Mujhe bhi sehni padegi mukhalifat apni آواز میں دستیاب
- 04 اسے چھوتے ہوئے بھی ڈر رہا تھا Usay chhote hue bhi dar raha tha آواز میں دستیاب
- 05 صلح کے بعد محبت نہیں کر سکتا میں Sulah ke baad mohabbat nahin kar sakta main آواز میں دستیاب
- 06 میں جب وجود سے ہوتے ہوئے گزرتا ہوں Main jab wajood se hote hue guzarta hoon آواز میں دستیاب
- 07 سخت مشکل میں کیا ہجر نے آسان مجھے Sakht mushkil mein kiya hijr ne aasaan mujhe آواز میں دستیاب
- 08 بجھنے دے سب دئے مجھے تنہائی چاہیئے Bujhne de sab diye, mujhe tanhai chahiye آواز میں دستیاب
- 09 فلک نژاد سہی سرنگوں زمیں پہ تھا میں Falak nizaad sahi sar-nigoon zameen pe tha main آواز میں دستیاب
- 10 کاش Kaash آواز میں دستیاب
- 11 سحر کو کھوج چراغوں پہ انحصار نہ کر Sehar ko khoj chiraghon pe inhisaar na kar آواز میں دستیاب
- 12 دیوار پہ رکھا تو ستارے سے اٹھایا Deewar pe rakha to sitare se uthaya آواز میں دستیاب
- 13 مہاجر پرندوں کا سواگت Muhajir parindon ka swagath آواز میں دستیاب
- 14 اک دوجے کو دیر سے سمجھا دیر سے یاری کی Ik dooje ko der se samjha der se yaari ki آواز میں دستیاب
- 15 عمر کی ساری تھکن لاد کے گھر جاتا ہوں Umar ki saari thakan laad ke ghar jata hoon آواز میں دستیاب
- 16 خاک چھانی نہ کسی دشت میں وحشت کی ہے Khaak chhanni na kisi dasht mein wahshat ki hai آواز میں دستیاب
- 17 ظہور کشف و کرامات میں پڑا ہوا ہوں Zahoor-e-kashf-o-karamat mein pada hua hoon آواز میں دستیاب
- 18 درد وراثت پا لینے سے نام نہیں چل سکتا Dard virasat pa lene se naam nahin chal sakta آواز میں دستیاب
- 19 یہ محبت کا جو انبار پڑا ہے مجھ میں Yeh mohabbat ka jo ambaar pada hai mujh mein آواز میں دستیاب
- 20 اس سے آگے تو بس لا مکاں رہ گیا Is se aage toh bas la makan reh gaya آواز میں دستیاب
- 21 خود سے باہر بھی مجھے اپنا پتا کرنا ہے Khud se bahar bhi mujhe apna pata karna hai آواز میں دستیاب
- 22 آیئندگاں کی اداسی میں Aayindagaan ki Udaasi mein آواز میں دستیاب
- 23 وصال کی تیسری سمت Visaal ki Teesari Simt آواز میں دستیاب
- 24 میں تمہارے لیے لے کے آیا ہوں Main tumhare liye le ke aaya hoon آواز میں دستیاب
- 25 آدھی موت کا جنم Aadhi Maut ka Janam آواز میں دستیاب
- 26 پرسہ Pursaa آواز میں دستیاب
- 27 انحراف Inhiraaf آواز میں دستیاب
- 28 ہم بےوطن خوابوں کے جولاہے ہیں Hum bewatan khwabon ke jolāhe hain آواز میں دستیاب
- 29 دِھی دا وَین Dhi da wain آواز میں دستیاب
- 30 کیسی تکرا ر ِمن و تُو تننا ہا یا ہُو Kaisi takra r-e-min o tu tannana ha ya hu آواز میں دستیاب
- 31 میں نے گوتم سے سیکھی ہوئی خامشی Main ne Gautam se seekhi hui khamoshi آواز میں دستیاب
- 32 خود اپنی ہی نظر سے گر کے چھوٹا ہوگیا ہوں Khud apni hi nazar se gir ke chhota ho gaya hoon آواز میں دستیاب
- 33 نیند مبارک Neend Mubarak آواز میں دستیاب
- 34 اساں کتاب نوں پھانسی دتی Assaan kitaab nu phaansi ditti آواز میں دستیاب
- 35 سجدہءشکر بھی ادا نہ ہوا Sajda-e-shukr bhi ada na hua آواز میں دستیاب
- 36 ہوس کوئی برتن نہیں چھوڑتی Hawas koi bartan nahin chhodti آواز میں دستیاب
- 37 او بھاویں لَکھ رمزاں مارے O bhawein lakh ramzaan maare آواز میں دستیاب
- 38 کبھی کبھار جو اپنے گھر جاتا ہوں میں Kabhi kabhaar jo apne ghar jaata hoon main آواز میں دستیاب
- 39 ہے زندگی کی طرح گرچہ آنی جانی موت Hai zindagi ki tarah garchay aani jaani maut آواز میں دستیاب
- 40 ویسے تو خود بھی ہُوں گا اپنے ساتھ Waise to khud bhi hooñ ga apne saath آواز میں دستیاب
- 41 قدم قدم سامنا ہوا شرمساریوں سے Qadam qadam saamna hua sharmsaariyon se آواز میں دستیاب
- 42 جس تمازت کی طلب دل میں ہے۔کیا سر میں بھی ہے Jis tamazat ki talab dil mein hai. Kya sar mein bhi hai آواز میں دستیاب
- 43 سہل کب تھا، جو کام کرلیا ہے Sehl kab tha, jo kaam kar liya hai آواز میں دستیاب
- 44 ٹھیک نہ ہوں جب تک اندازے اندر سے Theek na hoon jab tak andaaze andar se آواز میں دستیاب
- 45 سلگ سلگ کے جو خود کو دھواں بناتا ہوں Sulag sulag ke jo khud ko dhuaan banata hoon آواز میں دستیاب
- 46 میں اس سے اپنے تعلق کو یوں بچاتا ہوں Main us se apne ta'alluq ko yoon bachata hoon آواز میں دستیاب
- 47 چُوہنڈی رُگھ بھریا تے دل تڑفا لیا Chohunri ragh bhariya te dil tadpa liya آواز میں دستیاب
- 48 موت کیا پوری ہوچکی تھی مری ؟ Maut kya poori ho chuki thi meri? آواز میں دستیاب
- 49 چلنے دو سب کو اپنی راہوں میں Chalane do sab ko apni raahon mein آواز میں دستیاب
- 50 چوپایہ Chaupaya آواز میں دستیاب
- 51 خود اپنی ہی نظر سے گر کے چھوٹا ہوگیا ہوں Khud apni hi nazar se gir ke chhota ho gaya hoon آواز میں دستیاب
- 52 مری اک اپنی دنیا تھی Meri ek apni dunya thi آواز میں دستیاب
- 53 کاغذ تھا میں دیے پہ مجھے رکھ دیا گیا Kaghaz tha main diye pe mujhe rakh diya gaya آواز میں دستیاب
- 54 اک دیا ، روز جگاتا ہے مُجھے Ik diya, roz jagata hai mujhe آواز میں دستیاب
- 55 سہل کب تھا ، جو کام کر لیا ہے Sehl kab tha, jo kaam kar liya hai آواز میں دستیاب
- 56 ہنسی پرانی ہو سکتی ہے ، آنسو تازہ رہتا ہے Hansi purani ho sakti hai, aansoo taza rehta hai آواز میں دستیاب
- 57 کیا ہے قصد تو سو بار سوچ ، حوصلہ کر Kya hai qasd to sau baar soch, hausla kar آواز میں دستیاب
- 58 اچھی گزر گئی ، بھلے رو کر گزر گئی Achhi guzar gayi, bhale ro kar guzar gayi آواز میں دستیاب