انجم سلیمی

شاعر

تعارف شاعری

قدم قدم سامنا ہوا شرمساریوں سے

قدم قدم سامنا ہوا شرمساریوں سے
گزر کے آیا ہوں ذات کی راہ داریوں سے
ملال ہی جب نہیں،تو کوئی گلہ بھی کیسا
تری ہنرمندیوں ، سلیقہ شعاریوں سے
ہیں خواب بھی اب پناہ دینے سے مجھ کو قاصر
میں نیند میں ڈر رہا ہوں اپنے شکاریوں سے
کسی طرح بھر نہیں رہے ہیں طلب کے کاسے
دعاؤں کی بھیک مانگتے ہیں بھکاریوں سے
کہاں رکے گی یہ سست رو زندگی کی گاڑی
میں سخت بیزار ،ساتھ بیٹھی سواریوں سے

انجم سلیمی