سہل کب تھا ، جو کام کر لیا ہے
خود کو ، خود پر حرام کرلیا ہے
دشت میں خاک بھی اڑا لی تھی
باغ میں بھی خرام کر لیا ہے
دل پسیجے تو کوئی بات بنے
ویسے پتھر تو رام کر لیا ہے
کچھ تو دنیا بھی دل کو نرم کرے
آگے بڑھ کر سلام کر لیا ہے
شہر بھر کی زباں پہ رہتا ہوں
میں نے اتنا تو نام کر لیا ہے
اک کہانی کو موڑ دیتے ہوئے
اپنا قصہ تمام کر لیا ہے
بے زبانی کا دکھ سمجھتا ہوں
خامشی سے کلام کر لیا ہے
انجم سلیمی