انجم سلیمی

شاعر

تعارف شاعری

سہل کب تھا، جو کام کرلیا ہے

سہل کب تھا، جو کام کرلیا ہے
خود کو ، خود پر حرام کرلیا ہے
دشت میں خاک بھی اڑا لی تھی
باغ میں بھی خرام کرلیا ہے
دل پسیجے تو کوئی بات بنے
ویسے پتھر تو رام کرلیا ہے
کچھ تو دنیا بھی دل کو نرم کرے
آگے بڑھ کر سلام کر لیا ہے
شہر بھر کی زباں پہ رہتا ہوں
میں نے اتنا تو نام کرلیا ہے
اک کہانی کو موڑ دیتے ہوئے
اپنا قصہ تمام کر لیا ہے
بے زبانی کا دکھ سمجھتا ہوں
خامشی سے کلام کر لیا ہے

انجم سلیمی