انجم سلیمی

شاعر

تعارف شاعری

سجدہءشکر بھی ادا نہ ہوا

سجدہءشکر بھی ادا نہ ہوا
خود ہی کہا تھا
جب تک جاگ رہا ہوں تب تک
تم میرا بستر بن جاؤ
یا پھر یوں ہی....
زانو پر سر رکھ کر لیٹا رہنے دو
تھک جاؤ،... یا سو جاؤں
تو بےشک میرے سر کے نیچے اینٹ کا تکیہ رکھ جانا
آنکھ کھلی تو دیکھا
سر کے نیچے اینٹ کا تکیہ تھا
اور ماتھے پر محراب نے جگہ بنا لی تھی
(کہیں نہیں تھا اس کے بدن کا ریشمی بستر
کہیں نہیں تھا
کانوں میں سرگوشیاں کرتا
پٹ سن کے زانو کا تکیہ)
جانے کب تک...
کتنی عمروں.....
میں اس اینٹ کو شہروں شہروں، گلیوں گلیوں لئے لئے پھرتا رہتا تھا
نیند آتی تو تکیہ کرتا
جاگتا تو محراب بناتا
آج اک عمر کی نیند تمام ہوئی تو دیکھا
میں اک اینٹ کی مسجد میں
چھ فیٹ کی صف پر بچھا پڑا ہوں
سر کی طرف اک پٹ سن کی سی محراب کھڑی ہے
(کیا یہ پٹ سن کی سی اینٹ وہی ہے؟
یا اس کا زانو ہے؟؟!!!)
حیرت اور خوشی میں، میں تو اپنا مرنا بھول گیا ہوں
اب اس اینٹ کو شکرانے کا اک سجدہ مجھ پر واجب ہے
(قبل اس کے مرا نامہء اعمال کھلے
اور ہر صفحے پر ناشکری میں لپٹا یہی غفلت کا لمحہ
حرف جلی میں لکھ دیا جائے...)
اینٹ کے رخ پر، اک بوسے اور اک سجدے کا قرض ہے مجھ پر
لیکن کیا ہے.....
مہلت ختم ہوئی جاتی ہے
مٹی کی کبڑی چھت اتنی جھکی ہوئی ہے
سجدے میں جانا مشکل ہے،

انجم سلیمی