انجم سلیمی

شاعر

تعارف شاعری

سلگ سلگ کے جو خود کو دھواں بناتا ہوں

سلگ سلگ کے جو خود کو دھواں بناتا ہوں
زمیں کو اپنے تئیں آسماں بناتا ہوں
فقط دعا سے کہاں بال و پر نکلتے ہیں
میں چھت پہ بیٹھا ہوا سیڑھیاں بناتا ہوں
بندھے بندھائے یقیں پر خدا نہیں کھلتا
میں شک کے بیج سے کیا کیا گماں بناتا ہوں
میں دائرے کی طرح بیٹھتا ہوں چاروں طرف
جو منتشر ہیں انہیں درمیاں بناتا ہوں
مرے وجود سے ہوتی نہیں گھٹن پیدا
میں گفتگو میں نئی کھڑکیاں بناتا ہوں
میں صرف لفظوں میں بینائی ہی نہیں بھرتا
سماعتوں کے لیے بھی زباں بناتا ہوں

انجم سلیمی