اسرار الحق مجاز

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

اسرار الحق مجاز، جنہیں ہم شاعری میں تخلص مجاز کے نام سے جانتے ہیں، اردو ادب کے عظیم غزل گو اور نثر نگار تھے۔ وہ ۱۹ اکتوبر ۱۹۱۱ کو قریہ روداولی، ضلع Bara Banki، برطانوی ہند میں پیدا ہوئے۔ مجاز کی پیدائش کے حوالے سے بعض کم معروف ذرائع میں معمولی فرق نظر آتا ہے، لیکن زیادہ تر معتبر حوالہ جات یہی تاریخ تسلیم کرتے ہیں۔ بچپن سے ہی مجاز کو ادبی دلچسپی اور فکری حساسیت حاصل تھی، جو بعد میں ان کی شاعری اور نثر میں نمایاں طور پر نظر آئی۔ ان کا اصل نام اسرار الحق تھا اور “مجاز” تخلص ان کی ادبی شناخت بن گیا۔

تعلیمی لحاظ سے، مجاز نے ابتدائی تعلیم لکھنؤ میں حاصل کی اور بعد ازاں St. John’s College, Agra سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ وہ بعد ازاں Aligarh Muslim University (AMU) بھی گئے، جہاں انہوں نے نہ صرف علمی بلکہ ادبی محافل میں بھی نمایاں حصہ لیا۔ ان کی تعلیم اور علمی تربیت نے ان کے فکری اور تخلیقی دائرہ کار کو وسیع کیا۔ پیشے کے لحاظ سے مجاز بنیادی طور پر شاعر اور ادیب تھے، لیکن انہوں نے صحافتی و ادبی شعبوں میں بھی خدمات انجام دیں، جیسے دہلی میں جریدہ Awaaz میں سب ایڈیٹر اور بمبئی میں Department of Information کے تحت مختصر خدمات۔ ان کی ادبی سرگرمیاں Progressive Writers' Movement کے اثرات کی عکاسی کرتی ہیں اور وہ ادبی حلقوں میں متعدد معروف شعراء کے دوست اور ہم عصر رہے۔

مجاز کی شاعری میں انسانی جذبات، سماجی تضادات اور فکری تجسس نمایاں ہیں۔ ان کے مشہور مجموعے آہنگ، شبِ تار، سازِ نو وغیرہ اردو ادب میں لازوال حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی ذاتی زندگی کے پہلو بھی دلچسپ ہیں: بچپن میں ہلکی سماعت کی کمی، ذہنی اور جسمانی تنزّل کے آثار، رات جاگنے کی عادت اور شراب نوشی ان کے آخر ایام میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔ AMU کے لیے لکھا گیا ان کا نظم Nazr-e-Aligarh بعد ازاں یونیورسٹی کے ٹرانے کے طور پر مستعمل ہوا۔ اسرار الحق مجاز کا شمار اردو ادب کے ان شعراء میں ہوتا ہے جنہوں نے کم عمر میں گہری شاعری تخلیق کی اور اپنے طبعی مسائل کے باوجود ادبی دنیا میں امر مقام حاصل کیا۔ وہ ۵ دسمبر ۱۹۵۵ کو لکھنؤ میں وفات پا گئے، اور ان کی موت میں شراب نوشی اور متعلقہ طبی پیچیدگیوں نے اہم کردار ادا کیا، مگر ان کی شاعری آج بھی زندہ ہے اور اردو ادب کے محافل میں انہی کے الفاظ گونجتے ہیں۔