search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
رابطہ
اسرار الحق مجاز
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
ساقی گلفام باصد اہتمام آ ہی گیا
خود دل میں رہ کے آنکھ سے پردا کرے کوئی
عشرت تنہائی
رہ شوق سے اب ہٹا چاہتا ہوں
جنون شوق اب بھی کم نہیں ہے
سینے میں ان کے جلوے چھپائے ہوئے تو ہیں
شرارے
مزدوروں کا گیت
برباد تمنا پہ عتاب اور زیادہ
عاشقی جاں فزا بھی ہوتی ہے
خامشی کا تو نام ہوتا ہے
حسن پھر فتنہ گر ہے کیا کہئے
تسکین دل محزوں نہ ہوئی وہ سعئ کرم فرما بھی گئے
اعتراف
نذر دل
یوں ہی بیٹھے رہو بس درد دل سے بے خبر ہو کر
کمال عشق ہے دیوانہ ہو گیا ہوں میں
آج
ایک دوست کی خوش مذاقی پر
کچھ تجھ کو خبر ہے ہم کیا کیا اے شورش دوراں بھول گئے
حسن کو بے حجاب ہونا تھا
مجبوریاں
برباد تمنا پہ عتاب اور زیادہ
نوجوان خاتون سے
جنون شوق اب بھی کم نہیں ہے