عذرا یاسمین

شاعر

تعارف شاعری

غم چھپاؤ کہ سبھی آتے ہیں

غم چھپاؤ کہ سبھی آتے ہیں
مُسکراؤ کہ سبھی آتے ہیں
رہو محرومِ تمنا تم کیوں ؟
اب تو آؤ کہ سبھی آتے ہیں
اب تو محفل کا تقاضا ہے یہی
یوں نہ جاؤ کہ سبھی آتے ہیں
وقت کی دُھن پہ سبھی رقصاں ہیں
خاک اُڑاؤ کہ سبھی آتے ہیں
یک و تنہا بھی ہو گر محفل میں
یوں جتاؤ کہ سبھی آتے ہیں
باغ مہکے گلوں کے موسم میں
در سجاؤ کہ سبھی آتے ہیں

عذرا یاسمین