ہم جو روئے تو سبھی یاد آیا
تجھ کو چاہا تھا کبھی ، یاد آیا
اب تو بھولے سے گزرتے بھی نہیں
یہ تو رستہ ہے وہی ، یاد آیا
چاند نکلا جو شبِ ہجراں میں
ہم بھی بہکے تھے کبھی، یاد آیا
دور پہ دور کبھی چلتے تھے
جام دیکھا ،تو تبھی یاد آیا
ساتھ تھے باغ میں وہ صبح سمے
وہ جو چٹکی تھی کلی ،یاد آیا
عذرا یاسمین