باقی صدیقی — شاعر کی تصویر

دل سے باہر ہیں خریدار ابھی — باقی صدیقی

شاعر

تعارف شاعری

دل سے باہر ہیں خریدار ابھی

دل سے باہر ہیں خریدار ابھی
سامنے ہے بھرا بازار ابھی
آدمی ساتھ نہیں دے سکتا
تیز ہے سائے کی رفتار ابھی
یہ کڑی دھوپ یہ رنگوں کی پھوار
ہے ترا شہر پر اسرار ابھی
دل کو یوں تھام رکھا ہے جیسے
بیٹھ جائے گی یہ دیوار ابھی
آنچ آتی ہے صبا سے باقیؔ
کیا کوئی گل ہے شرربار ابھی

Dil se bahar hain khareedar abhi

Dil se bahar hain khareedar abhi
Saamne hai bhara bazaar abhi
Aadmi saath nahin de sakta
Tez hai saaye ki raftaar abhi
Yeh kadi dhoop yeh rangon ki phuwar
Hai tera shahar pur-asrar abhi
Dil ko yun thaam rakha hai jaise
Baith jayegi yeh deewar abhi
Aanch aati hai saba se Baqi
Kya koi gul hai sharar-baar abhi

شاعر کے بارے میں

باقی صدیقی

ِباقی صدیقی اردو اور پوٹھوہاری ادب کے اُن ممتاز شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے سادگی، خلوص اور انسانی احساسات کو اپنی شاعری کا محور بنایا۔ ان کا...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام