باقی صدیقی

شاعر

تعارف شاعری

دل کے لیے حیات کا پیغام بن گئیں

دل کے لیے حیات کا پیغام بن گئیں
بے تابیاں سمٹ کے ترا نام بن گئیں
کچھ لغزشوں سے کام جہاں کے سنور گئے
کچھ جرأتیں حیات پر الزام بن گئیں
ہر چند وہ نگاہیں ہمارے لیے نہ تھیں
پھر بھی حریف گردش ایام بن گئیں
آنے لگا حیات کو انجام کا خیال
جب آرزوئیں پھیل کے اک دام بن گئیں
کچھ کم نہیں جہاں سے جہاں کی مسرتیں
جب پاس آئیں دشمن آرام بن گئیں
باقیؔ جہاں کرے گا مری مے کشی پہ رشک
ان کی حسیں نگاہیں اگر جام بن گئیں

باقی صدیقی