ڈاکٹر بشیر بدر ایودھیا کی زمین پر15 فروری 1935 کو جنم لینے والے اس شاعر نے علی گڑھ کی دانش گاہوں سے علمِ ادب کی روشنی حاصل کی اور اردو غزل کو ایک نئی سادگی، ایک نئی چمک عطا کی۔ انہوں نے علی گڑھ یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا اور بعد ازاں اردو میں ہی پی ایچ ڈی کی، ڈاکٹر صاحب نے میرٹھ کالج (اتر پردیش) میں اردو کے پروفیسر کے طور پر تدریس کی، بعد میں بھارت سرکار کے ثقافتی اور ادبی اداروں کے ساتھ بھی وابستہ رہے، ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں ساحتیہ اکادمی ایوارڈ بھی ملا۔ وہ سیاسی شاعری سے ہمیشہ دور رہے اور کہا کرتے تھے، سیاست عارضی ہوتی ہے، محبت دائمی۔ وہ ہر شعر لکھنے کے بعد کئی دن تک اس پر غور کرتے۔ ان کے شاگردوں کے مطابق وہ کہا کرتے تھے شعر کو لکھنا نہیں، پکنے دینا چاہیے۔
1987 کے میرٹھ فسادات میں ان کا گھر جلا دیا گیا، ان کی نایاب کتابوں، مسودات اور ادبی ذخیرے کو آگ لگا دی گئی۔ اس حادثے کے بعد وہ بھوپال منتقل ہوگئے، جہاں انہوں نے نئی زندگی کا آغاز کیا، لیکن میرٹھ فسادات میں اپنے گھر کے جل جانے کا زکر ہمیشہ وہ دکھ بھرے لہجے میں کرتے تھے، ان کا کہنا تھا میری زندگی کے دو گھر تھے، ایک پتھروں کا اور ایک لفظوں کا دونوں جل گئے، 1960 کی دہائی میں ایک محفل میں اپنے دوستوں کے مصنوعی یا بناوٹی رویے سے بہت دلبرداشتہ ہوئے، اور فرمایا کہ کچھ رشتے وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتے، بس احساس کی شدت کھو دیتے ہیں۔انہی دنوں انہوں نے اپنا یہ مشہور شعر کہا، کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملوں گے تپاک سے، یہ نئے مزاج کا شہر ہے، ذرا فاصلہ سے ملا کرو۔ بشیر بدر نے جوانی میں لاہور میں ایک مشاعرے میں فیض احمد فیض سے ملاقات کی تھی۔ فیض نے ان کے ابتدائی کلام کو سن کر کہا تھا "تمہاری شاعری میں وہ سادگی ہے جو بڑے لوگوں میں ہوتی ہے، اسے برقرار رکھنا۔" یہ جملہ بشیر بدر کے لیے زندگی بھر ایک رہنما قول رہا۔
بھوپال میں گوشہ نشین اس شاعر نے اپنی ذات کو حرف حرف میں تحلیل کردیا، اور غزل کو وہ زبان دی جو عوام کے دل سے بولتی ہے۔ سیاست سے دور، محبت کے ابدی پیغام کے امین، ڈاکٹر بشیر بدر نے زندگی کو شاعری اور شاعری کو زندگی بنایا۔، ان کی یادداشت کمزور ہوچکی ہے اور وہ بھوپال میں اپنے بیٹے نقّی بدر کے ساتھ مقیم ہیں، اُجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو، نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے۔