بلھے شاہ

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

بلھے شاہ (اصل نام: عبداللہ شاہ) برصغیر کے عظیم صوفی شاعر، عرفانِ ذات کے مسافر اور پنجابی ادب کے سب سے روشن اور اثر آفریں ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ 1680ء میں پنجاب کے شہر اُچ شریف کے قریب پاندوکے نامی گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر کے ماحول میں حاصل کی، بعد ازاں قرآن، حدیث، فقہ اور فلسفہ کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی۔ نوجوانی میں ہی باطنی تلاش نے انہیں روحانی اساتذہ کی صحبت کی طرف مائل کیا اور آخرکار آپ نے حضرت شاہ عنایت قادری کی شاگردی اختیار کی، جو ان کے فکری و روحانی سفر میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔

بلھے شاہ کی شاعری پنجابی زبان کا وہ درخشاں سرمایہ ہے جس میں مذہبی، اخلاقی اور روحانی اقدار کو محبت، انسان دوستی اور رواداری کے دائرے میں ڈھال کر پیش کیا گیا ہے۔ ان کے کلام میں انا کی نفی، نفس کی شکست، اور عشقِ حقیقی کی تلاش بنیادی موضوعات ہیں۔ ’’بُلّھا کیہہ جانا مَیں کون‘‘، ’’اتھّے رکھ بیلے دے‘‘، اور ’’چل بُلّھے آور چلیئے‘‘ جیسے کلام نے انہیں برصغیر کے ہر دل عزیز شاعر کا درجہ دیا۔ ان کی زبان سادہ، عام فہم اور دل میں اُتر جانے والی ہے، مگر معنی کی گہرائی اس قدر وسیع ہے کہ آج بھی ہر پڑھنے والا اپنے اپنے زاویے سے اس میں نیا مفہوم تلاش کرتا ہے۔

بلھے شاہ کی زندگی اور شاعری دونوں مذہبی تنگ نظری کے خلاف ایک کھلا احتجاج تھیں۔ انہوں نے ذات پات، مذہبی تشدد اور معاشرتی منافرت کو رد کیا اور انسان کو انسان کی پہچان بنا کر پیش کیا۔ ان کی خانقاہ قصور میں واقع ہے، جہاں 1757ء کے قریب آپ کا وصال ہوا۔ آج بھی ان کے مزار پر ہر مسلک، ہر طبقے اور ہر رنگ کے لوگ حاضری دیتے ہیں۔ بلھے شاہ کا پیغام محبت، امن، اور باطنی سچائی کا ایسا آفاقی درس ہے جو صدیوں گزرنے کے باوجود زندہ ہے اور رہتی دنیا تک زندہ رہے گا۔