شاعر

داغ دہلوی

Daagh Dehlvi

50
منتخب کلام
49
آواز میں کلام
1
محفلیں
کلام پڑھیں

تعارف

جس کی غزلوں نے اردو زبان کو محبت کی مٹھاس، لہجے کی نزاکت اور بیان کی شوخی بخشی نواب مرزا خان داغ دہلوی۔
25مئی 1831 کو دہلی میں پیدا ہونے والے داغ، مغل سلطنت کے زوال اور اردو تہذیب کے عروج، دونوں کے گواہ تھے۔ داغ کی والدہ وزیر خانم بہادر شاہ ظفر کے ولی عہد مرزا فخرو کی بیوہ تھیں ،ان کے والد نواب شمس الدین احمد خان پر انگریز افسر ولیم فریزر کے قتل کا الزام لگا، اور اسی کیس میں انہیں پھانسی دی گئی ، یعنی داغ، شاہی خاندان سے رشتہ دارانہ تعلق رکھتے تھے۔ ابتدائی تعلیم شاہی محل میں ہوئی،والد کی پھانسی کے بعد کم سنی میں ہی داغ اپنی والدہ کے ساتھ نواب یوسف علی خان ناظم، رامپور کے دربار میں چلے گئے، وہیں انہوں نے فارسی، عربی، عروض اور شاعری کی تربیت حاصل کی اور زوق دہلوی کے شاگرد بنے، اور سخن کی وہ راہ اختیار کی جس نے اردو غزل کو نئی زندگی بخشی۔
داغ دہلوی نے زندگی میں کبھی شادی نہیں کی۔ ان کا عشق زیادہ تر تخیل اور معاشرتی مشاہدے کا نتیجہ تھا، ان کے مشہور شاگردوں میں علامہ اقبال، جگر مراد آبادی، حسرت موہانی، اور نواب مرزا شوق شامل ہیں۔اقبال نے اپنی ابتدائی شاعری داغ کے کلام اور اندازسے اثر قبول کیا اور انھوں نے داغ کو اپنا رہنما مانا ۔ اقبال نے داغ کو غزلوں کی اصلاح کے لیے اپنی تخلیقات بھیجی تھیں اور داغ نے تبصرے بھیجے
17 مارچ 1905 کو وہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے، نلگونڈہ (حیدرآباد کے قریب) میں ان کا مزار واقع ہے

منتخب اشعار

زاہد نہ کہہ بری کہ یہ مستانے آدمی ہیں

تجھ کو لپٹ پڑیں گے دیوانے آدمی ہیں

پورا کلام ‹

یہ بات بات میں کیا نازکی نکلتی ہے

دبی دبی ترے لب سے ہنسی نکلتی ہے

پورا کلام ‹
  1. 01 زاہد نہ کہہ بری کہ یہ مستانے آدمی ہیں Zahid na keh buri ke yeh mastane aadmi hain آواز میں دستیاب
  2. 02 یہ بات بات میں کیا نازکی نکلتی ہے Yeh baat baat mein kya nazuki nikalti hai آواز میں دستیاب
  3. 03 وہ زمانہ نظر نہیں آتا Woh zamana nazar nahin aata آواز میں دستیاب
  4. 04 عذر ان کی زبان سے نکلا Uzr unki zaban se nikla آواز میں دستیاب
  5. 05 عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں Uzr aane mein bhi hai aur bulate bhi nahin آواز میں دستیاب
  6. 06 ان کے اک جاں نثار ہم بھی ہیں Unke ek jaan-nisar hum bhi hain آواز میں دستیاب